

Omar, Bilal, Maria اور Faizan گرمیوں کی چھٹیوں میں Grandpa کے گھر پہنچے۔ باغ میں ایک بڑا پرانا درخت تھا۔ "یہاں ٹری ہاوس بناتے ہیں!" Omar نے کہا۔ سب نے خوشی سے ہاں کہی۔ Arsal بھی آ گیا اور کہا، "میں مدد کروں گا۔" Grandpa مسکرایا۔ "یہ بہترین جگہ ہے۔" چاروں کزنز نے لکڑیاں اور اوزار اکٹھے کیے۔ ان کا نیا ایڈوینچر شروع ہو گیا تھا۔

تین دن کی محنت کے بعد ٹری ہاوس تیار تھا۔ اندر کرسیاں اور کتابیں تھیں۔ "یہ ہماری خفیہ جگہ ہے،" Maria نے کہا۔ Bilal نے دوربین لائی۔ Faizan نے نوٹ بک رکھی۔ شام کو وہ اوپر بیٹھے اور گاؤں کو دیکھا۔ اچانک Omar نے کہا، "وہ دیکھو! کوئی چل رہا ہے۔" سب نے دوربین سے دیکھا۔ ایک شخص بھاگ رہا تھا۔ کچھ غیر معمولی ہو رہا تھا۔

اگلی صبح Grandpa اخبار لایا۔ بڑی خبر تھی کہ ایک لڑکا گم ہو گیا۔ "یہ دیکھو!" Bilal نے کہا۔ تصویر میں ایک بچہ تھا۔ Maria نے پڑھا، "کل رات گم ہوا۔" "شاید وہی شخص تھا جو ہم نے دیکھا،" Omar بولا۔ Arsal نے سنجیدگی سے کہا، "ہمیں پولیس کو بتانا چاہیے۔" Faizan نے نوٹ بک کھولی۔ "پہلے کچھ سراغ ڈھونڈتے ہیں۔" سب تیار ہو گئے۔

چاروں کزنز جنگل کی طرف گئے جہاں شخص بھاگا تھا۔ زمین پر نشانات تھے۔ "یہ دیکھو، جوتے کے نشان!" Maria نے دکھایا۔ Bilal نے ایک ٹوٹا ہوا بٹن اٹھایا۔ "یہ اہم ہو سکتا ہے۔" Faizan نے سب کچھ لکھا۔ Omar نے کہا، "نشان اس طرف جا رہے ہیں۔" وہ احتیاط سے آگے بڑھے۔ پرانی جھونپڑی نظر آئی۔ "وہاں چلتے ہیں،" سب نے فیصلہ کیا۔

جھونپڑی پرانی اور خستہ تھی۔ دروازہ آدھا کھلا تھا۔ Arsal پہلے گیا۔ "کوئی نہیں ہے،" اس نے کہا۔ اندر کچھ کپڑے اور کھانے کے ڈبے تھے۔ Maria نے ایک کاغذ اٹھایا۔ اس پر نقشہ بنا تھا۔ "یہ کیا ہے؟" Bilal نے دیکھا۔ Faizan نے کہا، "یہ گاؤں کا نقشہ ہے۔" "ایک جگہ پر نشان ہے،" Omar نے اشارہ کیا۔ نیا سراغ مل گیا تھا۔

نقشے پر نشان پرانی چکی کی طرف تھا۔ "وہاں دو کلومیٹر دور ہے،" Faizan نے کہا۔ Arsal نے فیصلہ کیا، "پہلے Grandpa کو بتاتے ہیں۔" گھر واپس آئے اور سب کچھ بتایا۔ Grandpa نے کہا، "احتیاط سے جانا۔" شام کو سب تیاری کرنے لگے۔ Maria نے ٹارچ لیا۔ Bilal نے پانی کی بوتلیں رکھیں۔ Omar پرجوش تھا۔ "کل صبح چلیں گے،" سب نے کہا۔

صبح جلدی سب نکلے۔ راستہ پتھریلا تھا۔ Arsal آگے آگے چل رہا تھا۔ پرانی چکی بڑی اور خاموش تھی۔ "کوئی آواز؟" Maria نے پوچھا۔ سب نے کان لگائے۔ اندر سے ہلکی آواز آئی۔ "کوئی ہے!" Bilal نے کہا۔ دروازہ بند تھا لیکن کھڑکی کھلی تھی۔ Omar نے اندر جھانکا۔ "ایک لڑکا ہے! وہ بندھا ہوا ہے!" سب حیران رہ گئے۔

"ہمیں پولیس کو بلانا ہوگا،" Arsal نے کہا۔ Faizan نے فون نکالا لیکن سگنل نہیں تھا۔ "میں بھاگ کر گاؤں جاتا ہوں،" Omar بولا۔ Maria نے کہا، "میں ساتھ چلتی ہوں۔" Arsal، Bilal اور Faizan وہیں رکے۔ وہ لڑکے کو ہمت دلاتے رہے۔ "ہم تمہیں بچا لیں گے۔" لڑکا روتے ہوئے بولا، "شکریہ!" Omar اور Maria تیزی سے بھاگے۔ وقت بہت کم تھا۔

Omar اور Maria گاؤں پہنچے اور پولیس کو بلایا۔ چند منٹ میں پولیس کی گاڑی آئی۔ سب واپس چکی پر گئے۔ پولیس نے دروازہ توڑا اور لڑکے کو آزاد کیا۔ "تم سب بہادر ہو،" افسر نے کہا۔ لڑکے کے والدین بھی آ گئے۔ وہ خوشی سے رو رہے تھے۔ "شکریہ، تم نے میرے بیٹے کو بچایا!" Grandpa فخر سے مسکرایا۔ چاروں کزنز خوش تھے۔ مجرم جلد پکڑا جائے گا۔

اگلے دن اخبار میں ان کی تصویر تھی۔ "نوجوان جاسوسوں نے لڑکا بچایا،" عنوان تھا۔ سارا گاؤں ان سے ملنے آیا۔ Grandpa نے کہا، "میں تم پر بہت فخر کرتا ہوں۔" لڑکے کے والدین نے تحفے دیے۔ Maria شرمائی۔ Bilal مسکرایا۔ Faizan نے کہا، "ہم نے ٹیم ورک کیا۔" Omar خوشی سے اچھل رہا تھا۔ Arsal نے سب کو گلے لگایا۔ یہ یادگار دن تھا۔

دو دن بعد پولیس نے مجرم کو پکڑ لیا۔ وہ چوری کے لیے لڑکا اٹھا کر لے گیا تھا۔ پولیس نے کزنز کو شکریہ کہا۔ "تمہاری مدد سے کیس حل ہوا،" افسر بولا۔ سب نے راحت کی سانس لی۔ Grandpa نے جشن کا اہتمام کیا۔ باغ میں کھانا تیار ہوا۔ دوست اور خاندان جمع ہوئے۔ ٹری ہاوس سجا ہوا تھا۔ "یہ بہترین گرمیاں ہیں!" سب نے کہا۔

گرمیوں کے آخری دن آ گئے۔ چاروں کزنز ٹری ہاوس میں بیٹھے۔ "یہ سب یادگار رہے گا،" Maria نے کہا۔ Bilal نے نوٹ بک دکھائی جس میں سارا کیس لکھا تھا۔ Faizan نے کہا، "اگلی گرمیوں میں پھر آئیں گے۔" Omar نے وعدہ کیا، "اور نئی مہمات کریں گے۔" Arsal اور Grandpa بھی آئے۔ "تم ہمیشہ یہاں آ سکتے ہو،" Grandpa بولا۔ سب نے ہاتھ ملائے۔ دوستی اور ہمت کی یہ کہانی ہمیشہ یاد رہے گی۔